ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے متعلق راجہ ظفر الحق کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری

ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے متعلق راجہ ظفر الحق کمیٹی کی مکمل رپورٹ جاری | thenewstribe.com/urdu 753

اسلام آباد: ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کے متعلق راجہ ظفر الحق کمیٹی کی 11 صفحات پر مشتمل مکمل رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

ارکان قومی اسمبلی کے لیے حلف نامہ میں تبدیلی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے قائم کمیٹی کی رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 24 مئی کے اجلاس میں الیکشن بل زیر بحث آیا، انوشہ رحمان (ن لیگ) اور ایم این اے شفقت محمود (پی ٹی آئی) نے بل کو ری ڈرافٹ کیا۔ انوشہ رحمان کو فارمز کا مسودہ نظر ثانی کے لیے دیا گیا، کمیٹی کے اگلے اجلاس میں انوشہ رحمان نے نظر ثانی شدہ فارم پیش کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نظر ثانی شدہ فارم کو جانچ پڑتال کی ہدایت کے ساتھ منظور کیا گیا۔

رپورٹ میں اعتراف شامل ہے کہ کمیٹی کے علم میں آیا کہ حلف نامہ فارمز کو سادہ بنانے کے دوران اس کو تبدیل کیا گیا، 93 ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس تمام ممبران کو بھیجے گئے تاہم حلف نامے میں تبدیلی کے حصہ کو نہیں بھیجا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد نے بطور کنوینئر تسلیم کیا کہ ڈرافٹ چیک کرنا اس کی ذمہ داری تھی، 22 ستمبر کو ہونے والے سینیٹ اجلاس میں راجہ ظفرالحق نے سینیٹر حافظ حمد اللہ کی قراداد کی حمایت کی، جب کہ سینیٹ میں حلف نامے کے حوالے سے قراداد کی پی ٹی آئی اور پی پی پی نے مخالفت کی۔

رپورٹ کے مطابق اسپیکر کی جانب سے تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان سے رابطہ کیا گیا تھا، جس کے بعد 4 اکتوبر کو اسپیکر نے تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہوں سے میٹنگ کی، تمام پارلیمانی جماعتیں اس پر متفق ہوئیں کہ سیون بی اور سیون سی کو بحال کیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زاہد حامد کے استعفی کا مطالبہ بھی پوری پوچکا اور فارم بھی اپنی اصلی شکل میں بحال ہوچکا ہے۔ رپورٹ کے ساتھ پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس بلانے کے نوٹیفکیشن بھی لگائے گئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم نبوت حلف نامہ سے متعلق راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

اسلام آباد کورٹ کے فیصلہ میں کہا گیا تھا کہ دالت کے لیے ایک شخص، جماعت یا گروہ پر ذمہ داری ڈالنا مشکل ہے، اس معاملے کی تفصیلی جانچ پڑتال ضروری ہے۔

تبصرے

تبصرہ کریں