جسٹس شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس کی سماعت کھلی عدالت میں‌ہو گی

جسٹس شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس کی سماعت کھلی عدالت میں‌ہو گی | thenewstribe.com/urdu 781

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کھلی عدالت میں ہو گی۔

ہفتہ کے روز سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیف جسٹس کی سربراہی میں ہوا تاہم یہ ان کیمرہ اجلاس تھا۔ جس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اوپن ٹرائل کی منظوری دی۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ ماہ کے اختتام پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف خاصہ عرصہ قبل دائر کیے گئے ریفرنس کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

سماعت کے لیے سات جولائی کی تاریخ مقرر کرنے کا نوٹس اس وقت خبروں کی زینت بنا تھا جب اس میں سماعت کی تاریخ درج کرتے ہوئے سال غلط لکھ دیا گیا تھا۔

ہفتہ کے روز ہونے والے اجلاس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ کیا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت اوپن کورٹ میں ہوگی۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل کو 30 جولائی کو گواہ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے جس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی اعلیٰ عدلیہ کے جج کے ریفرنس کی سماعت کھلی عدالت میں ہوگی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس کو بند کمرے کے بجائے کھلی عدالت میں سننے کی استدعا کی تھی جسے پہلے سپریم جوڈیشل کونسل نے مسترد کردیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو جسٹس شوکت عزیز نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کو اوپن ٹرائل کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پرنظرثانی کی ہدایت کی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سی ڈی اے حکام پر اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان کیا ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت قائم کی گئی ججوں پر مشتمل ایک کونسل ہے جو کسی بھی جج کے خلاف ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملات کی سماعت کرتی ہے۔

آئین میں درج تفصیل کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔ اس کے ارکان میں سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین جج اور ہائی کورٹس کے دو سینئر ترین جج شامل ہوتے ہیں۔ اگر کونسل کسی رکن جج کے خلاف سماعت کرتے تو اس صورت میں مذکورہ رکن کو دوسرے سینئر ترین جج سے بدل دیا جاتا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی جج کے خلاف ازخود بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ کونسل اگر کسی جج کو خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے تو وہ صدر پاکستان کو مذکورہ جج کی برخواستگی کی سفارش کرتی ہے۔

تبصرے

تبصرہ کریں